Search This Blog

Showing posts with label new urdu novel. Show all posts
Showing posts with label new urdu novel. Show all posts

Tuesday, 12 June 2018

meri sarisht men hai khata episode 4

میری سرشت میں ہے خطا
قسط نمبر ۴

مہربان استاد کے دفتر میں رانی کا دوسرا اور تیسرا سال کب گزرا؟رانی کو خبر ہی نہیں ہوئی تھی۔ہاں اسے پتا تھا کہ اب وہ اردو میں درخواست لکھ سکتی تھی،مضمون لکھ سکتی تھی۔اخبار پڑھ سکتی تھی۔کہانیاں اور کوڑے کے دھیر سے ملنے والی کتابیں بھی۔اسے انگلش بولنا بھی آتا تھا۔چھوٹے چھوٹے کئی فقرے مہربان استاد اسکے ساتھ استعمال کرتے تھے۔دو سالوں میں رانی کے معمولات مین کوئی خاص فرق نہیں آیا تھا،وہ اب بھی صبح سویرے اپنی ماں کے ساتھ گھر سے نکلتی۔مسجد کے باہر لگے نلکے سے منہ ہاتھ دھوتی۔کنگھی کرتی۔جوتا صاف کرتی۔اور پھر پکی آبادی کے سارے دروازے گن کر،ہاوسنگ سکیم کا رخ کرتی۔ہاؤسنگ سکیم کے کھلتے گیٹ اور نکلتی گاڑیاں۔اچھلتے کودتے بچے جن میں سے بیشتر اسکے سکول کے تھے اور جن مین سے بیشتر رانی کو نہین جانتے تھے کہ وہ مہربان استاد کے دفتر تک ہی محدود رہتی تھی۔ہاں سالانہ امتحانات میں وہ ضرور اسکو اپنے درمیان دیکھتے،یا پھر دفتر کسی کام سے جانے والا بچہ بتاتا۔
”آج میں نے ایک لڑکی کو دیکھا،پرنسپل کے آ فس میں“


new urdu novel meri sarisht men hai khata episode 4
new urdu novel meri sarisht men hai khata episode 4
new urdu novel meri sarisht men hai khata episode 4
new urdu novel meri sarisht men hai khata episode 4




Sunday, 6 May 2018

meri sarisht men hai khata episode 4

میری سرشت میں ہے خطا
قسط نمبر ۴

مہربان استاد کے دفتر میں رانی کا دوسرا اور تیسرا سال کب گزرا؟رانی کو خبر ہی نہیں ہوئی تھی۔ہاں اسے پتا تھا کہ اب وہ اردو میں درخواست لکھ سکتی تھی،مضمون لکھ سکتی تھی۔اخبار پڑھ سکتی تھی۔کہانیاں اور کوڑے کے دھیر سے ملنے والی کتابیں بھی۔اسے انگلش بولنا بھی آتا تھا۔چھوٹے چھوٹے کئی فقرے مہربان استاد اسکے ساتھ استعمال کرتے تھے۔دو سالوں میں رانی کے معمولات مین کوئی خاص فرق نہیں آیا تھا،وہ اب بھی صبح سویرے اپنی ماں کے ساتھ گھر سے نکلتی۔مسجد کے باہر لگے نلکے سے منہ ہاتھ دھوتی۔کنگھی کرتی۔جوتا صاف کرتی۔اور پھر پکی آبادی کے سارے دروازے گن کر،ہاوسنگ سکیم کا رخ کرتی۔ہاؤسنگ سکیم کے کھلتے گیٹ اور نکلتی گاڑیاں۔اچھلتے کودتے بچے جن میں سے بیشتر اسکے سکول کے تھے اور جن مین سے بیشتر رانی کو نہین جانتے تھے کہ وہ مہربان استاد کے دفتر تک ہی محدود رہتی تھی۔ہاں سالانہ امتحانات میں وہ ضرور اسکو اپنے درمیان دیکھتے،یا پھر دفتر کسی کام سے جانے والا بچہ بتاتا۔
”آج میں نے ایک لڑکی کو دیکھا،پرنسپل کے آ فس میں“


new urdu novel meri sarisht men hai khata episode 4
new urdu novel meri sarisht men hai khata episode 4
new urdu novel meri sarisht men hai khata episode 4
new urdu novel meri sarisht men hai khata episode 4




Wednesday, 25 April 2018

meri sarisht men hai khata episode 2 میری سرشت میں ہے خطا

 میری سرشت میں ہے خطا




رانی کے لیے کتابوں کی دنیا بالکل نئی تھی۔اس نے کتابوں کے بارے میں سنا نہیں تھا، اس نے انہیں ردی کاغذوں کے ساتھ کوڑے کے ڈھیروں میں دیکھا تھا۔ جنکی تعداد میں تعلیمی سال کے آخر میں اضافہ ہو جاتا۔ نہ وہ کتابوں کے بارے میں صرف یہ جانتی تھی کہ کتابیں اسے پکی آبادی کے رہائیشیوں،ہاؤسنگ سکیم کے مکینوں اور  گاڑیوں میں گھومتے شہنشاہوں  کے برابر لے جا سکتی تھیں۔لیکن اس نے کتابیں پڑھنا شروع کیا تو جانا کتابیں اس سب سے بڑھ کر تھیں جو وہ سمجھتی آئی تھی۔الف کی سیدھی لکیر نے اسکے دل کی دھڑکن کو کئی گنا بڑھا کر  اسے انسانیت کا درس سکھانا شروع کیا تھا تو ب کے خم نے اسے پر پیچ راستوں کی نوید سنائی تھی۔اسے  زندگی کے سات سال گزار چکنے کے بعد حرفوں نے بنانا شروع کیا تھا،لفظوں نے سنوارنا شروع کیا تھا،اور لفظوں اور حرفوں کا ساتھ دینے کے لیے تھے اسکے مہربان استاد۔جو اسکی الجھتی سوچوں اور پر پیچ پروازوں کو سنوار رہے تھے۔ وہ رانی کو طالبہ بنا رہے تھے۔
اور کوئی شک نہیں تھا کہ وہ ایک بہترین طالبہ تھی۔اگر لفظ اسے منتخب کر رہے تھے تو وہ لفظوں سے چار قدم آگے دوڑ کر انہیں پا رہی تھی۔وہ تین سال کا نصاب ایک سال میں ختم کر  کے دوسری جماعت میں پہنچ چکی تھی۔اور اس میں عمل دخل صرف اسکی لگن کا نہیں تھا اسکے مہربان استاد کا بھی تھا۔انہوں نے کبھی اسے کلاس میں نہیں بٹھایا تھا۔وہ اسے اپنے پاس اپنے دفتر میں بٹھاتے تھے۔ساڑھے سات بجے انکے پہنچنے سے پہلے وہ دفتر کے باہر موجود ہوتی تھی۔دوپہر دو بجے آخری گھنٹی بجنے کے بعد وہ اپنا بستہ بند کرتی تھی۔وہ بستہ جو اپنے اندر موجود ہر چیز سمیت مہربان استاد کی ہی ایک مہر بانی تھا۔ان مہربانیوں میں اسکی ماں بھی شامل تھی۔جسکا ہر دن  اپنے شوہر کے لیے ایک جھوٹ تھا کہ وہ رانی کو اپنے ساتھ لے کر جاتی ہے۔
اسکا باپ شاید اسکی ایک دن کی چھٹی برداشت کر لیتا لیکن رانی کا پڑھنا وہ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔اور اسکی بہت سی وجوہات تھیں۔رانی کی ماں رانی کی حمایت کر سکتی تھی لیکن وہ چاہتی تھی جتنا عرصہ کسی بدمزگی کے بغیر گزر جائے، اچھا ہے۔اپنی ماں کی مجبوری رانی بھی جانتی تھی لہذا اس نے بھی کبھی باپ کو اپنی پڑھائی سے آگاہ کرنے کی کوشش نہیں کی اسکے بر عکس اسکا ہر دن اسے اسکے عزم میں پختہ کر ہا تھا۔
”پڑھنا ہے، اور پڑھ کے گھر بنانا ہے۔“یہ وہ خواب تھا جو وہ روز دیکھتی تھی اور شاید دیکھتی ہی رہتی جو اس دن اردو کی کتاب میں ”میرا گھر“
نہ پڑھ رہی ہوتی۔سبق پڑھتے ہوئے گھر بنانے کی آرزو ایک مرتبہ پھر پوری شدت سے جاگی۔
”میں پڑھ لکھ کر اپنا گھر بناؤں گی“اس نے پڑھتے پڑھتے مہربان استاد سے کہا۔
”ٹھیک ہے اور پھر میں تمہارے گھر کا نقشہ بناؤں گا“مہربان استا د نے شفیق سی شرارت سے کہا۔


free urdu novel meri sarisht men hai khata episode 2

free urdu novel meri sarisht men hai khata episode 2

meri sarisht men hai khata episode 2 free urdu novel

meri sarisht men hai khata episode 2 urdu novel

free urdu novel meri sarisht men hai khata episode 2

free urdu novel meri sarisht men hai khata episode 2

Saturday, 21 April 2018

Meri sarisht men hai khata complete novel episode 1

 میری سرشت میں ہے خطا

                   میں خطاؤں کا پتلا ہوں 
                                     میرے ہاتھ پہ میرا نام لکھ دو

اسکا نام رانی تھا۔اور وہ سچ مچ میں رانی تھی۔
اپنے من کی،اپنی ہم عمر لڑکیوں کی اور اپنی ماں کی!
اپنے من کی۔۔۔،
کہ وہ اپنے دل کی ہر بات سنتی تھی۔ہر وہ کام جو اسے کرنا ہوتا  وہ اپنے دل کی مرضی سے کرتی۔پکی آ بادی کے کوڑے کے ڈھیر اسے پسند نہیں تھے،وہ وہاں نہیں جاتی تھی۔جبکہ ہاؤسنگ سکیم کے ہر چھوٹے بڑے کوڑے کے ڈھیر سے وہ واقف تھی۔وہاں اکثر اچھی چیزیں مل جاتی تھیں۔مثلا ٹوٹے بازووں والی گڑیا،ٹوٹی ہوئی پونیاں جنہیں گرہ لگا کر قابل استعمال بنایا جا سکتا تھا،ٹوٹے ہوئے جوتے جن کے اوپر سے تتلیاں بٹن اور دوسری چھوٹی موٹی چیزیں اترجاتی تھیں۔کبھی کبھی ادھ کھائی چاکلیٹ یا  بسکٹ کے خالی ریپر میں ایک آدھ  بسکٹ۔فیشن میگزینز کے صفحے جن پر مختلف خوبصورت لوگوں کی تصاویرہوتی تھیں یا کبھی ایک روپیہ۔۔۔!!
اسے وہ ڈھیر اچھے لگتے تھے  اسی لیے اپنے بھائیوں سے علیحدہ وہ انہی ڈھیروں میں جاتی،لیکن اسکی عجیب عادت تھی۔اپنا سارا دن ان ڈھیروں میں لگانے کے بعدوہ وہاں سے اکٹھی کی گئی چیزیں اپنے پاس نہیں رکھتی تھی۔اپنی تماتر جدتوں کے ساتھ وہ چیزیں اسے اتنی قیمتی نہیں لگتی تھیں کہ وہ انہیں اپنے پاس رکھے،لہذا وہ انہیں اپنی سہیلیوں میں بانٹ دیتی۔اور یوں وہ اپنی سہیلیوں کی رانی تھی۔
وہ اپنی ماں کی بھی رانی تھی۔وہ کبھی کام پر جانے سے منع نہیں کرتی تھی۔وہ صبح چھ بجے ہی اٹھ جاتی تھی۔وہ مغرب سے پہلے جھگی واپس نہیں آتی تھی۔اور کوڑے میں سے اٹھائے جانے والی وہ دو چیزیں جو وہ اپنے پاس رکھتی تھی،ان میں سے ایک چیز وہ اپنی ماں کو دے دیتی تھی۔وہ پیسے ہوتے تھے۔کبھی ایک روپیہ،کبھی دو روپے۔اور دوسری چیزوہ اپنے پاس ہی رکھتی تھی۔
اسکی ماں نے کبھی جاننے کی کوشش نہیں کی کہ وہ کیا چیز تھی؟اس نے کبھی بتانے کی کوشش نہیں کی کہ وہ کیا چیز تھی؟وہ ان چند قیمتی چیزوں میں سے ایک تھی جسے بیچ کر انکی آمدن کا بڑا حصہ بنتا تھا۔اور اگر اسکا باپ جان لیتاکہ وہ اپنے پاس کیا رکھتی ہے؟تو وہ اسے بے انتہا مارتا،اسکی تمام تر تابعداری اور محنت کے باوجود۔اسکا باپ بھی ایک علیحدہ کردار تھا۔انکی جھگیوں کے عمومی کرداروں سے ہٹ کے۔اسکے باپ نے کبھی کسی نشہ آور چیز کو ہاتھ نہیں لگایا تھا،جبکہ انکی جھگیوں میں تقریباً ہر مرد نشہ کرتا تھا،اور کبھی کوئی انہیں روکنے کی کوشش نہیں کرتا۔یہ رانی کے خاندان کی خوش قسمتی تھی کہ اسکا باپ نشہ نہیں کرتا تھا۔وہ صبح پونے چھ اٹھ جاتا،اپنے تینوں بچوں کو جگاتا۔جھگیوں میں کسی کے تین بچے نہیں تھے۔ہر ایک کے چھہ یا سات یا اس سے زیادہ بچے تھے مگر یہ بھی رانی کے خاندان کی خوش قسمتی  تھی کہ وہ تین بہن بھائی تھے۔



free urdu novel

free urdu novel
free urdu novel
free urdu novel


free urdu novel